ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایڈی یورپا کو پارٹی ہائی کمان کی تنبیہ۔ وزارتی قلمدان تقسیم کرو یا پھر اسمبلی تحلیل کرو

ایڈی یورپا کو پارٹی ہائی کمان کی تنبیہ۔ وزارتی قلمدان تقسیم کرو یا پھر اسمبلی تحلیل کرو

Sat, 24 Aug 2019 19:17:55    S.O. News Service

نئی دہلی 24/اگست (ایس او نیوز) معتبر ذرائع سے ملنے والی خبر کے مطابق بی جے پی ہائی کمان نے وزیراعلیٰ کرناٹکا ایڈی یورپا کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارتی قملدانوں سے متعلق الجھن اور وزارت سے محروم اراکین اسمبلی کے خلفشار کو جلد سے جلد دور کرلیں ورنہ پھر اسمبلی کو تحلیل کرتے ہوئے از سرِ نو انتخابات کا سامنا کریں۔

خیال رہے کہ کئی دنوں تک ایڈی یورپا نے کابینہ کی توسیع کو معطل رکھا تھا پھر چار دن قبل جب پہلے مرحلے میں 17اراکین اسمبلی کو وزارت میں شامل کرتے ہوئے حلف برداری کی گئی تو ایک طرف وزارت سے محروم بعض اراکین اسمبلی اور ان کے حامیوں نے پارٹی کے خلاف بیان بازی اور احتجاج شروع کیا ہے تو دوسری طرف وزارتی قلمدانوں کی تقسیم کا مسئلہ وزیر اعلیٰ کے لئے درد سر بن گیا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ اس پس منظر میں ”پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ایڈی یورپا کو واضح تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے وہ جلد سے جلد پارٹی اور وزارتی قلمدانوں سے متعلق مسائل کو حل کرلیں۔اور یہ مسائل بہت دنوں تک یونہی برقرار رہتے ہیں تو پھراسمبلی کوتحلیل کرنا اور از سرنو انتخابات منعقد کروانا ہی بہتر ہوگا۔“ پارٹی کے ایک اعلیٰ لیڈر کا کہنا ہے کہ ”چونکہ مہاراشٹرا، ہریانہ اور جھارکھنڈ اسمبلیوں کے لئے اکتوبر۔نومبر میں انتخابات منعقد ہونے والے ہیں،اس لئے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا یہ موقف بن گیا ہے کہ اگرکرناٹکا کے ریاستی لیڈران کے لئے بغیر کسی الجھن کے حکومت چلانا ممکن نہ ہوتو کرناٹکا اسمبلی کے لئے بھی اسی موقع پر انتخابات منعقدکرنا بہتر ہے۔

 بتایا جاتا ہے کہ وزارتی قلمدانوں کی تقسیم کا مسئلہ حل کرنے کی نیت سے وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا جمعرات کے دن بی جے پی صدر امیت شاہ اور ورکلنگ پرسیڈنٹ جے پی ندّا سے ملنے دہلی پہنچے تھے، لیکن بار بار درخواست کے باوجود دونوں میں سے کسی بھی لیڈر نے ان سے ملاقات کے لئے وزیر اعلیٰ کو وقت نہیں دیا۔ الٹے پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ایڈی یورپا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ اندرونی مسائل ریاستی سطح پر ہی حل کرلیں۔ پارٹی کی دہلی ہائی کمان کرناٹکا حکومت کے تعلق سے میڈیا میں آنے والی منفی رپورٹس اور کابینہ کی توسیع کے بعد پارٹی کے اراکین اسمبلی کی جانب سے باغیانہ تیور سے سخت ناراض ہے۔اور پارٹی کی ریاستی یونٹ کی جانب سے کسی قسم کی شکایات کے سننے کے موڈ میں نہیں ہے۔

 پارٹی ذرائع سے ملی ایک خبر کے مطابق وزیراعلیٰ ایڈی یورپا، ان کے فرزند بی وائی وجیندرا اور وزارت میں شامل کیے گئے نئے وزیر سی این وشواناتھن نے سابقہ اسپیکر کی جانب سے نااہل قرار دئے گئے کانگریس اور جنتادل کے بعض اراکین اسمبلی کے ساتھ جمعہ کے دن دہلی کے ایک خفیہ مقام پر بڑی لمبی چوڑی میٹنگ منعقد کی اور موجودہ صورت حال پر گھنٹوں بحث و گفتگو کرتے رہے۔ پتہ چلا ہے کہ دو دن سے دہلی سے قیام کرنے والے باغیوں میں 8اراکین اسمبلی نے سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد انہیں کابینہ میں شامل کیے جانے پر اہم ترین وزارتی قلمدانوں پر اپنا دعویٰ کسی قیمت پر واپس لینے سے انکار کیا ہے۔یہ بھی پتہ چلا ہے کہ نااہل قرار دئے گئے باغی اراکین اسمبلی ایڈی یورپا سے اس بات پر بھی برہم ہوئے کہ پارٹی سے صدر امیت شاہ سے ملنے کے لئے انہیں ساتھ نہیں لے جایا گیا۔اس کے علاوہ لکشمن ساواڈی کو کابینہ میں شامل کرنے پر بھی باغی اراکین نے اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔اندرونی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بی جے پی نے نااہل قرار دئے گئے 17اراکین اسمبلی میں سے 12اراکین کوسپریم کورٹ کا فیصلہ ان کے حق میں آنے پر وزارتی قلمدان سونپنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اور وہ سب کے سب اہم ترین قلمدانوں پر اپنا دعویٰ جتا رہے ہیں، جس کی وجہ سے ایڈی یورپا کو پہلے مرحلے کی توسیع کے بعد وزراء کو قلمدان سونپنا مشکل ہوگیا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ دن بھر کی میٹنگ کے بعد جمعہ کے دن شام کو ایڈی یورپا دہلی کے’کرناٹکا بھون‘میں واپس پہنچے اور وہاں میڈیا سے ملے بغیر ہی سیدھے بنگلوروواپس لوٹ گئے۔
 


Share: